ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ادھو ٹھاکرے کا انکشاف، اس وجہ سے 2014میں بی جے پی کے ساتھ کیا تھا اتحاد

ادھو ٹھاکرے کا انکشاف، اس وجہ سے 2014میں بی جے پی کے ساتھ کیا تھا اتحاد

Wed, 25 Jul 2018 00:10:18    S.O. News Service

ممبئی،24جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے آج دعوی کیا کہ اگر ان کی پارٹی نے 2014میں مہاراشٹر میں حکومت تشکیل میں بی جے پی کی حمایت نہ کی ہوتی تو بی جے پی اپوزیشن کانگریس اور این سی پی کو توڑ حکومت بنا لیتی۔ٹھاکرے نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے 2014کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دے کر کوئی غلطی نہیں کی، لیکن انہیں دھوکہ ملا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی یوپی اے اتحاد پر بدعنوانی کے الزامات کی بنیاد پر اقتدار میں آئی، لیکن وہ کوئی بھی الزام ثابت نہیں کر پائی۔ٹھاکرے نے کہاکہ اگر ہم نے حکومت میں شراکت داری نہیں کی ہوتی تو بی جے پی جس طرح ہر ممکنہ ذرائع استعمال کر ریاستوں کو جیتتی جا رہی ہے جیسے اس نے تریپورہ میں کانگریس اور ترنمول کانگریس کو توڑ دیا، اسی طرح یہ مہاراشٹر میں اقتدار میں آنے کے لئے کانگریس اور این سی پی کو توڑ دیتی۔انہوں نے کہاکہ ایسا ہونے دینے کی جگہ میں نے اپنے لوگوں کو حکومت میں کام کرنے کا تجربہ کرنے کی اجازت دی۔شیوسینا لیڈر نے جاننا چاہا کہ 2جی گھوٹالے کا کیا ہوا جس کی بحث نہ صرف ملک میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت (جب گھوٹالہ سامنے آیا)ملک کی شبیہہ اتنے کم سطح پر پہنچ گئی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ ہندوستان جیسا بدعنوان کوئی اور ملک نہیں ہے۔شیوسینا صدر نے کہاکہ نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت بدل گئی، لیکن بدعنوانی کے الزامات میں کچھ نہیں ہوا۔یہاں تک کہ آج بھی آپ (بی جے پی)تقریبا 60 سال کے بدعنوانی کی بات کرتے ہیں، لیکن اب تک کچھ بھی ثابت نہیں ہوا ہے۔انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ اگر بدعنوانی ہے تو اسے ثابت کیجیے۔ ٹھاکرے نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ آج کل جب کوئی کام کرتا ہے تو اسے بدعنوان قرار دے دیا جاتا ہے اور اگر کوئی کام نہیں کرتا تو اسے غیر فعال قرار دے دیا جاتا ہے۔یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں مہاراشٹر میں چار سال تک اقتدار میں رہنے سے کیا ملا، ٹھاکرے نے کہا کہ حکومت میں شیو سینا کے وزراء کو انتظامی کام کا تجربہ ملا۔انہوں نے کہاکہ ایک طرح سے یہ حکومت چلانے کی مشق ہے۔کیا ہونا چاہئے، کیا نہیں کیا جانا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ منصوبوں کو کس طرح قتل کیا جانا چاہئے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وزیر اعظم نریندر مودی صرف اپنے آبائی ریاست گجرات کی فکر کرتے ہیں، ٹھاکرے نے ان پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ صرف غیرملکی دورے پر رہتی ہے۔ ٹھاکرے نے کہاکہ اقتدار (شیوسینا کے ہاتھوں میں )آئے گی جب لوگ ایسا فیصلہ کریں گے۔لوگ اب تک دیگر تمام جماعتوں کو دیکھ چکے ہیں، لیکن انہوں نے صرف شیوسینا کو ہی اقتدار میں نہیں دیکھا ہے۔اسی لئے میں نے اپنے لوگوں کو اقتدار میں رہنے کا تجربہ لینے دیا۔


Share: